شاعر: سید اظہار بخاری
حوزہ نیوز ایجنسی|
وہ بادشاہ، وہ مولا، جہاں پناہ حضورؐ
علی و ارفع و اعلیٰ، ہیں عالی جاہ حضورؐ
یہ اور بات کہ ہم خیر مانگ ہی نہ سکے
ہے خیر آپؐ سے، اُمت کے خیرخواہ حضورؐ
گناہ و جُرم و ضلالت کی انتہاء ہوں میں
کرم کی، لطف و عنایت کی انتہاء حضورؐ
جہاں میں خُلد کی راہیں بدلنے والو سُنو
ہیں خُلد اور شفاعت کی سیدھی راہ حضورؐ
سراپا عصیاں ہوں ، امید لے کے آیا ہوں
پڑا ہوں قدموں میں، مجھ پر کریں نگاہ حضورؐ
میں گمرہی میں بھٹک کر سنبھل گیا اُس دم
کہا بلالؓ نے ، دیکھو ، پناہ گاہ حضورؐ
سپاہِ خندق و خیبر ہو ، یا کہ اُحد و بدر
تبھی میں فاتح ہوا ، تھے میری سپاہ حضورؐ
علی ولی کے فضائل بیان ہوتے جب
میں ہوتا ، جوش میں کہتا کہ، واہ واہ حضورؐ
جہانِ حرف میں میرا وجود آپؐ سے ہے
خدا گواہ میرے اظہار کی ہیں جاہ حضورؐ









آپ کا تبصرہ